بہانہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عذر، حیلہ، ظاہرداری، دھوکا، دم، فریب۔  ہم کو مرنا بھی میسر نہیں جینے کے بغیر موت نے عمر دو روزہ کا بہانا چاہا      ( ١٩٤١ء، کلیات، فانی، ٦١ ) ٢ - ڈھب، ترکیب۔  چشم سیہ میں سرمہ دے، زلف رسا میں شانہ کر قتل جہاں کے واسطے تازہ پھر اک بہانہ کر      ( ١٩٢٧ء، میخانہ الہام، شاد، ١٦٠ ) ٣ - سبب، باعث، ذریعہ۔ "اس بہانے سے اکثر، ناجائز تخیلات کو عمدہ الفاظ کے پیرایے میں ادا کرنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے"۔      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اردو میں داخل ہوا، اسم جامد ہے۔ ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - سبب، باعث، ذریعہ۔ "اس بہانے سے اکثر، ناجائز تخیلات کو عمدہ الفاظ کے پیرایے میں ادا کرنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے"۔      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ٢٥ )