بہاو
معنی
١ - پانی کا نشیب کی جانب بہنے کا عمل، روانی۔ 'بہاؤ میں اتنی تیزی تھی کہ ان کے پاؤں مشکل سے سنبھل سکتے تھے۔" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٢٩:١ ) ٢ - دریا وغیرہ کے بہنے کا رخ، ڈھال، نشیب۔ طبع رواں دکھا گئی ساحل مراد کا کشتی کو میں نے چھوڑ دیا ہے بہاؤ پر ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ١٥٧ ) ٣ - سیلاب، پانی کا ریلا۔ 'اتفاق سے ایک بار ایک بڑا بہاؤ آیا لوگ پراگندہ ہوئے۔" ( ١٩٢٤ء، تذکرہ الاولیا، مرزا جان، ٧٢٥ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ'وہنین' سے ماخوذ اردو مصدر 'بہنا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦١ء میں 'دیوان ناظم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پانی کا نشیب کی جانب بہنے کا عمل، روانی۔ 'بہاؤ میں اتنی تیزی تھی کہ ان کے پاؤں مشکل سے سنبھل سکتے تھے۔" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٢٩:١ ) ٣ - سیلاب، پانی کا ریلا۔ 'اتفاق سے ایک بار ایک بڑا بہاؤ آیا لوگ پراگندہ ہوئے۔" ( ١٩٢٤ء، تذکرہ الاولیا، مرزا جان، ٧٢٥ )