بیاسی

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - اسی اور دو، (ہندسوں میں) 82۔  شیروں کے رخ ہیں لال یہ ہے حالت عتاب آفت کا دن ہے سرخ بیاسی ہیں آفتاب      ( ١٩٠٠ء، مراثی فارغ، ١٢٥:٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'دواشیت' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بیاسی' مستعمل ہے ١٧٩١ء میں 'شاہ عبدالقادر' کے ترجمہ قرآن" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: دواشِیْت