بیاہتا

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - وہ عورت جو دستور کے مطابق بیاہ کر کے لائی گئی ہو، پہلی بیوی، شادی شدہ عورت۔ "اس کی دوسری بیوی صغرا بیاہتا بیوی کے مقابلے میں بہت ہی کم وقعت رکھتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، خدائی راج، ١٨ ) ٢ - بیاہا مرد، پہلا خاوند۔ "کاتے جاری کاتے جا تیرا تار نہ ٹوٹے بیاہتا خصم چھوٹے مگر کار نہ چھوٹے۔" (مشہور کہاوت، فرہنگ آصفیہ، ٤٥٨:١)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بیاہ' کے ساتھ 'تا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'بیاہتا' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٢ء کو "نثر بے نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ عورت جو دستور کے مطابق بیاہ کر کے لائی گئی ہو، پہلی بیوی، شادی شدہ عورت۔ "اس کی دوسری بیوی صغرا بیاہتا بیوی کے مقابلے میں بہت ہی کم وقعت رکھتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، خدائی راج، ١٨ ) ٢ - بیاہا مرد، پہلا خاوند۔ "کاتے جاری کاتے جا تیرا تار نہ ٹوٹے بیاہتا خصم چھوٹے مگر کار نہ چھوٹے۔" (مشہور کہاوت، فرہنگ آصفیہ، ٤٥٨:١)