بیر
معنی
١ - دشمنی، عداوت، کینہ؛ مخالفت، نفرت۔ 'اسے کسی سے بیر تھا نہ جلاپا۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ١٩٩ ) ٢ - تضاد، صندیت، یکجا جمع نہ ہو سکنے کی کیفیت یا حالت، لاگ۔ عشق اور عقل میں اے دوست ہمیشہ سے ہے بیر لوگ جو کچھ مجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں ( ١٩٢٧ء، میخانۂ الہام، شاد، ٢٠١ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'ویر' ہے جوکہ بطور اسم کیفیت مستعمل ہے۔ اردو میں اس سے ماخوذ 'بیر' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء میں 'گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دشمنی، عداوت، کینہ؛ مخالفت، نفرت۔ 'اسے کسی سے بیر تھا نہ جلاپا۔" ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ١٩٩ )