بیرونی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - (شہر یا ملک کے) باہر کا، غیر جگہ کا۔ "قعلے کے بیرونی دروازے پر بادشاہ کے سواروں سے مڈبھیڑ ہوئی۔"      ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١١٣ ) ٢ - ظاہری۔ "غیروں کو بھڑکانے کے واسطے صرف بیرونی حالت اور ظاہری صورت کچھ بہتر بنالی۔"      ( ١٩٣٢ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٧٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بیرون' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگنے سے 'بیرونی' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٤ء میں "تحقیق الجہاد" کے 'مقدمہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (شہر یا ملک کے) باہر کا، غیر جگہ کا۔ "قعلے کے بیرونی دروازے پر بادشاہ کے سواروں سے مڈبھیڑ ہوئی۔"      ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١١٣ ) ٢ - ظاہری۔ "غیروں کو بھڑکانے کے واسطے صرف بیرونی حالت اور ظاہری صورت کچھ بہتر بنالی۔"      ( ١٩٣٢ء، راشدالخیری، نالۂ زار، ٧٨ )

اصل لفظ: بیرون