بیروں

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - باہر "کچھ مقامات پر قریبی خلیات کے بیروں نوات مادۂ حیات (سائٹو پلازم) میں بلا واسطہ رابطہ بھی ہو سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ٣٧:١ ) ٢ - [ تصوف ]  آفاق؛ بمقابلہ اندروں کے بمعنی انفس (مصباح التعرف الارباب التصوف، 65) ١ - ظاہری حال۔ "ایک شخص نے جناب الطاف حسن قریشی کے دورن و بیرن میں کئی ایک میں میخ نکالیں۔"      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٢٢٥ ) ٢ - [ تصوف ]  سالک کا اپنی ہستی سے باہر آنا یعنی فانی ہونا حق میں۔(مصباح التعرف لارباب التصوف، 65) ١ - علاوہ، بغیر۔ (پلیٹس)

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باہر "کچھ مقامات پر قریبی خلیات کے بیروں نوات مادۂ حیات (سائٹو پلازم) میں بلا واسطہ رابطہ بھی ہو سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ٣٧:١ ) ١ - ظاہری حال۔ "ایک شخص نے جناب الطاف حسن قریشی کے دورن و بیرن میں کئی ایک میں میخ نکالیں۔"      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٢٢٥ )

جنس: مذکر