بیزاری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اکتاہٹ، خگفی۔ "ان کے مزاج میں آدم بیزاری، ضد اور غصّے کی کچھ انتہا نہ تھی۔"      ( ١٩١٩ء، آپ بیتی، ٦٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'بیزار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'بیزاری' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اکتاہٹ، خگفی۔ "ان کے مزاج میں آدم بیزاری، ضد اور غصّے کی کچھ انتہا نہ تھی۔"      ( ١٩١٩ء، آپ بیتی، ٦٧ )

جنس: مؤنث