بیس

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - دس اور دس کا مجموعہ، انیس اور ایک، (ہندسوں میں) 20 "ابو قریش بیس ہزار دینار لے کر گھر چلا آیا۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ٥٥٨ ) ٢ - (مقابل سے) بیش یا زیادہ بہتر، "دیباچے میں محمد شاہی دربار کی جو کیفیت لکھی ہے اس سے بھی لکھنؤ کی حالت بیس تھی۔"      ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت، حیات طیبہ، ٢٧٥ ) ٣ - (صفات میں) کامل، مکمل۔ "نواب صاحب نے پوچھا دونوں میں زیادہ حسین کون ہے۔ 'کہا' عرض کیا نہ خداوند کہ دونوں بیس ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، جام سرشار، ٢١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ونشت' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بیس' مستعمل ہے ١٧٩١ء میں شاہ عبدالقادر کے (ترجمۂِ قرآن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دس اور دس کا مجموعہ، انیس اور ایک، (ہندسوں میں) 20 "ابو قریش بیس ہزار دینار لے کر گھر چلا آیا۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ٥٥٨ ) ٢ - (مقابل سے) بیش یا زیادہ بہتر، "دیباچے میں محمد شاہی دربار کی جو کیفیت لکھی ہے اس سے بھی لکھنؤ کی حالت بیس تھی۔"      ( ١٩٢٨ء، مرزا حیرت، حیات طیبہ، ٢٧٥ ) ٣ - (صفات میں) کامل، مکمل۔ "نواب صاحب نے پوچھا دونوں میں زیادہ حسین کون ہے۔ 'کہا' عرض کیا نہ خداوند کہ دونوں بیس ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، جام سرشار، ٢١ )

اصل لفظ: وِنشِت