بیساکھ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - ہندی بکرمی نیز شمسی سال کا پہلا مہینہ جو عموماً وسط اپریل سے وسط مئی تک ہوتا ہے۔ "جیٹھ بیساکھ کی دھوپ بادل کی گرج اور بجلی کی چمک سب برداشت کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، خطبات مشران، ٣٠٣:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ویشاکھ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بیساکھ' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٦٢٥ء میں "بکٹ کہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہندی بکرمی نیز شمسی سال کا پہلا مہینہ جو عموماً وسط اپریل سے وسط مئی تک ہوتا ہے۔ "جیٹھ بیساکھ کی دھوپ بادل کی گرج اور بجلی کی چمک سب برداشت کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٠ء، خطبات مشران، ٣٠٣:١ )

اصل لفظ: ویشاکھ
جنس: مذکر