بیوگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بیوہ ہو جانے کی حالت، شوہر مر جانے کی صورت حال، بیوہ پن۔ "دل چاہتا تھا کہ وہ ایک دفعہ شوہر کی قبر پر بیوگی کے آنسو گرائے۔"      ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بیوہ' سے 'ہ' حذف کر کے 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے 'بیوگی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٧ء کو "توبۃ الضوح" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیوہ ہو جانے کی حالت، شوہر مر جانے کی صورت حال، بیوہ پن۔ "دل چاہتا تھا کہ وہ ایک دفعہ شوہر کی قبر پر بیوگی کے آنسو گرائے۔"      ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٣٠ )

اصل لفظ: بیوَہ
جنس: مؤنث