بیٹا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فرزند، پسر، پوت۔  بیٹا وہ بری ہو جس کی خصلت ہے باپ کے حق میں طوق لعنت      ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ١٩٠ ) ٢ - [ مجازا ]  شاگرد، ہر کم سن لڑکا، بھتیجا، بھانجا، داماد، پیار کے موقع پر پالتو جانور سے تخاطب کا کلمہ ماخوذ : فرہنگ آصفیہ، 460:1 ماخوذ : نوراللغات، 774:1 ماخوذ : پلیٹس ٣ - پیار میں بیٹی سے تخاطب کا کلمہ۔ "اصغری گئی، مولوی صاحب نے کہا، کیوں بیٹا اب انتظام کون کرے"      ( ١٨٦٨ء، مراۃ العروس، ١٧٧ ) ٤ - [ تحقیرا ]  وہ شخص جس کی ناطاقتی اور بے حیثیتی کا اظہار مقصود ہو۔ "جب اصلیت کا سامنا کرنا پڑا تو بیٹا چیں بول گئے"۔      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، بانو قدسیہ، ٦٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں 'ویٹک' استعمال ہوتا تھا۔ اردو میں داخل ہوا اور ١٥٩٢ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - پیار میں بیٹی سے تخاطب کا کلمہ۔ "اصغری گئی، مولوی صاحب نے کہا، کیوں بیٹا اب انتظام کون کرے"      ( ١٨٦٨ء، مراۃ العروس، ١٧٧ ) ٤ - [ تحقیرا ]  وہ شخص جس کی ناطاقتی اور بے حیثیتی کا اظہار مقصود ہو۔ "جب اصلیت کا سامنا کرنا پڑا تو بیٹا چیں بول گئے"۔      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، بانو قدسیہ، ٦٨٢ )

جنس: مذکر