بیگار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بلا اجرت کام کرنے والا۔  بیگار بھی درکار ہیں سرکار میں صاحب آتے ہیں کنچھے ہم کبھی بیگار میں صاحب      ( ١٨١٠ء، کلیات میر، ٦٧٣ ) ١ - بلا اجرت کام (جو محکوم یا رعایا سے دباؤ میں یا اس کی کسی مثلاً گاڑی وغیرہ سے لیا جائے)۔  لیے جاتے ہیں بار عشق ہم مجبور دنیا سے ارے یار و زبردستی کی یہ بیگار کیسی ہے      ( ١٩٠٥ء، یاد گار داغ، ٨٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر"میں مستعمل ملتا ہے۔