بیگم

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - امیر زادی، مالکہ (خادمہ کے بالمقابل) شریف خاتون (بیشتر نام کے ساتھ تعظیم کے طور پر مستعمل) "مامتا ہی ہے وہ چیز جس میں بیگم اور باندی دونوں یکساں"      ( ١٩٣٦ء، نالہ زار، ٥ ) ٢ - زوجہ، بیوی۔ "بادشاہ کی ایک بیگم تھی اور حرم سرائیں بہت تھیں"۔     "محترمہ سروجنی نائیڈو اور بیگم حسرت موہانی تشریف رکھتی ہیں"۔      ( ١٨٠٠ء، قصہ گل و ہرمز، ٤ الف )( ١٩٢١ء، رپورٹ نیشنل کانگریس، منعقدہ احمد آباد، ١٣ )

اشتقاق

ترکی زبان سے اردو میں داخل ہوا، اسم جامد ہے۔ ١٨٨٧ء کو "سخندان فارس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - امیر زادی، مالکہ (خادمہ کے بالمقابل) شریف خاتون (بیشتر نام کے ساتھ تعظیم کے طور پر مستعمل) "مامتا ہی ہے وہ چیز جس میں بیگم اور باندی دونوں یکساں"      ( ١٩٣٦ء، نالہ زار، ٥ ) ٢ - زوجہ، بیوی۔ "بادشاہ کی ایک بیگم تھی اور حرم سرائیں بہت تھیں"۔     "محترمہ سروجنی نائیڈو اور بیگم حسرت موہانی تشریف رکھتی ہیں"۔      ( ١٨٠٠ء، قصہ گل و ہرمز، ٤ الف )( ١٩٢١ء، رپورٹ نیشنل کانگریس، منعقدہ احمد آباد، ١٣ )

جنس: مؤنث