ت

قسم کلام: حرف تہجی

معنی

١ - عربی حروف تہجی ابتث کا تیسرا، اردو فارسی کا چوتھا، دیو ناگری کا سولھواں اور ابجد کا بائیسواں حرف ہے، تائے قرشت اور تائے مثناۃ فوقانیہ کے نام سے موسوم ہے مستقل مصمۃ (حرف صحیح) اسنانی (دندانی) ہے نوک زبان اور دندان کی مدد سے ادا کیا جاتا ہے۔حساب ابجد یا جمل میں اس کے چا سو (400) عدد مقرر ہیں اگر یہ 'ہ' کی صورت میں لکھا جائے تو اس کے صرف پانچ (5) عدد لیے جائیں گے۔ یہ حرف شمسی ہے اور 'ال' لگنے پر متشد ہو جاتا ہے 'ال' بحالت ترکیب غیر ملفوظ رہتا ہے۔یہ حرف عربی الفاظ میں حسب ذیل صورتوں میں 'ت' کی حالت میں لکھا جاتا ہے:1۔جمع مؤنث سالم میں، جیسے: صالحات، مسلمات۔2۔جب اصلی ہو، جیسے: وقت، التفات، موت۔3۔اسماء کے آخر میں جب تاے تانیث، تائے مصدری، تائے مبالغہ اور تائے نقل (معنی وصفی سے بدل کر اسم کر دیتی ہے) تو ہائے ہوز سے بدل جاتی ہے جیسے: فاجرہ، تکملہ وغیرہ اور عربی کے مرکب الفاظ میں قاعدۂ عربی کی تقلید کی جاتی ہے، جیسے: مع العافیہ: آصف الدولہ۔عربی کے الفاظ، صلواۃ، زکواۃ جمع کے شبہے سے بچنے کے لیے عربی رسم الخط کے موافق لکھے جاتے ہیں تاکہ صلواۃ اور صلوات میں فرق ہو سکے۔ حرف 'ت' پر جب عربی تنوین آتی ہے تو گول (ۃ) لکھی جاتی ہے جیسے: استعارۃً، کنایۃً مگر مزبورا لآخر میں تاً بھی لکھتے ہیں۔ "کیا میں استفادتاً کچھ عرض کرسکتا ہوں?"      ( ١٩٥٢ء، نگارستان مانی، ٢١ ) ٢ - اردو کلمے کے آخر میں بطور علامت اسم کیفیت مستعمل، جیسے: پڑھت، رنگت وغیرہ۔ ت اسمیت: بادشاہت وغیرہ      ( وضع اصطلاحات، ٧٧ ) ٤ - (ریاضی کی ترقسمات میں) یونانی بڑے حرف T(TAU) کا بدل۔ (ماخوذ: ترقیمات ریاضی و سائنس، 2)

اشتقاق

عربی، فارسی، اردو اور دیونا گری میں حرف تہجی ہے۔

مثالیں

١ - عربی حروف تہجی ابتث کا تیسرا، اردو فارسی کا چوتھا، دیو ناگری کا سولھواں اور ابجد کا بائیسواں حرف ہے، تائے قرشت اور تائے مثناۃ فوقانیہ کے نام سے موسوم ہے مستقل مصمۃ (حرف صحیح) اسنانی (دندانی) ہے نوک زبان اور دندان کی مدد سے ادا کیا جاتا ہے۔حساب ابجد یا جمل میں اس کے چا سو (400) عدد مقرر ہیں اگر یہ 'ہ' کی صورت میں لکھا جائے تو اس کے صرف پانچ (5) عدد لیے جائیں گے۔ یہ حرف شمسی ہے اور 'ال' لگنے پر متشد ہو جاتا ہے 'ال' بحالت ترکیب غیر ملفوظ رہتا ہے۔یہ حرف عربی الفاظ میں حسب ذیل صورتوں میں 'ت' کی حالت میں لکھا جاتا ہے:1۔جمع مؤنث سالم میں، جیسے: صالحات، مسلمات۔2۔جب اصلی ہو، جیسے: وقت، التفات، موت۔3۔اسماء کے آخر میں جب تاے تانیث، تائے مصدری، تائے مبالغہ اور تائے نقل (معنی وصفی سے بدل کر اسم کر دیتی ہے) تو ہائے ہوز سے بدل جاتی ہے جیسے: فاجرہ، تکملہ وغیرہ اور عربی کے مرکب الفاظ میں قاعدۂ عربی کی تقلید کی جاتی ہے، جیسے: مع العافیہ: آصف الدولہ۔عربی کے الفاظ، صلواۃ، زکواۃ جمع کے شبہے سے بچنے کے لیے عربی رسم الخط کے موافق لکھے جاتے ہیں تاکہ صلواۃ اور صلوات میں فرق ہو سکے۔ حرف 'ت' پر جب عربی تنوین آتی ہے تو گول (ۃ) لکھی جاتی ہے جیسے: استعارۃً، کنایۃً مگر مزبورا لآخر میں تاً بھی لکھتے ہیں۔ "کیا میں استفادتاً کچھ عرض کرسکتا ہوں?"      ( ١٩٥٢ء، نگارستان مانی، ٢١ )

جنس: مؤنث