تا
معنی
١ - تک کے معنی میں۔ نالہ تا آسمان جاتا ہے شور سے جیسے بان جاتا ہے ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣١٢ ) ٢ - جب تک، جس وقت تک۔ حسن سے اپنے نہ سیری ہو بتوں کو ہرگز تا وہ آئینے میں سو بار نظارا نہ کریں ( ١٨٢٤ء، مصحفی، دیوان، (انتخاب رامپور)، ١٦٠ ) ٣ - تاکہ، اس لیے کہ تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٨٨ ) ٤ - مدت یا وقت ظاہر کرنے کے لیے، تک، بھر۔ تا عمر وصف یار کے لکھا پڑھا کیے چلنے لگی زبان اگر ہاتھ تھک گیا ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٣٢ ) ٥ - یک کے ساتھ بطور لاحقۂ عددی بمعنی بے مثل۔ ہم کو کسی طرح سے دو عملہ نہ بھائے گا یکتا جو کوئی ہو گا وہ کاہے کو آئے گا ( ١٨٥٨ء، سحر (نوراللغات) )
اشتقاق
فارسی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ مستعمل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نو سرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔