تابش

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - چمک، روشنی، نور۔  وہ جلوہ گر ہیں، پھر بھی ہے گلہ ہمیں حجاب کا کہ تابش جمال کام دیتی ہے نقاب کا      ( ١٩٢٥ء، نقوش مانی، ١١٠ ) ٢ - گرمی، حرارت، تپش۔ "جب ستم کے آفتاب کی تابش سے اور ظلم کی آگ کی گرمی سے گھبراتا ہے۔"      ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٤٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مصدر 'تابیدن' سے حاصل مصدر 'تابش' ہے۔ اردو میں ١٦٩٧ء کو ہاشمی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گرمی، حرارت، تپش۔ "جب ستم کے آفتاب کی تابش سے اور ظلم کی آگ کی گرمی سے گھبراتا ہے۔"      ( ١٨٠٣ء، گنج خوبی، ٤٦ )

جنس: مؤنث