تابع
معنی
١ - فرماں بردار، مطیع، ماتحت، پابند، زیراثر۔ "ہمارے تمام افعال اور حرکات ہمارے ارادے کے تابع ہیں۔" ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٠٥:٤ ) ٢ - تابعی۔ مہاجر ہوں کہ تابع ہوں کہ انصار وہ میری طرح ان سب کا ہے مختار رجوع کریں: ( ١٨٥٥ء، ریاض المسلمین، ٦٤ )
اشتقاق
عربی سے زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فرماں بردار، مطیع، ماتحت، پابند، زیراثر۔ "ہمارے تمام افعال اور حرکات ہمارے ارادے کے تابع ہیں۔" ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٠٥:٤ )