تادیب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تنبیہ، چشم نمائی، گوشمالی۔ "جلوس میں خان دوران خاں کے ساتھ ساہو جی بھونسلا کی تادیب پر مامور ہوئے۔"      ( ١٩١٠ء، "امرائے ہنود" ٦٤ ) ٢ - علم و ادب سکھانا، ادب سیکھنا، اخلاقی تربیت۔ "(والدہ کی) تعلیم و تادیب سرسید جیسے جوہر قابل کے لیے اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٣:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معانی و ساخت کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٨٢٤ء کو "سیر عشرت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تنبیہ، چشم نمائی، گوشمالی۔ "جلوس میں خان دوران خاں کے ساتھ ساہو جی بھونسلا کی تادیب پر مامور ہوئے۔"      ( ١٩١٠ء، "امرائے ہنود" ٦٤ ) ٢ - علم و ادب سکھانا، ادب سیکھنا، اخلاقی تربیت۔ "(والدہ کی) تعلیم و تادیب سرسید جیسے جوہر قابل کے لیے اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٣:٢ )

اصل لفظ: ادب
جنس: مؤنث