تاریکی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سیاہی، تیرگی، اندھیرا۔      "جس طرح ہم تاریکی میں آنکھوں کو دیکھنے کی تکلیف نہیں دیتے"۔     رجوع کریں:   ( الحقوق والفرائض، ٢٠:١ ) ٢ - [ مجازا ]  گمراہی، جہالت، بے خبری "دنیا اس عالمگیر تاریکی میں پڑی ہوئی تھی کہ دفعتاً اسلام نے آ کر ان تمام خیالات اور معتقدات کا پردہ چاک کر دیا"۔      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ١٣٦ )

اشتقاق

تاریک کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت آیا ہے تو 'تاریکی' بنا، "سب رس" میں ١٦٣٥ء میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - سیاہی، تیرگی، اندھیرا۔      "جس طرح ہم تاریکی میں آنکھوں کو دیکھنے کی تکلیف نہیں دیتے"۔     رجوع کریں:   ( الحقوق والفرائض، ٢٠:١ ) ٢ - [ مجازا ]  گمراہی، جہالت، بے خبری "دنیا اس عالمگیر تاریکی میں پڑی ہوئی تھی کہ دفعتاً اسلام نے آ کر ان تمام خیالات اور معتقدات کا پردہ چاک کر دیا"۔      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ١٣٦ )

اصل لفظ: تاریک
جنس: مؤنث