تازہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پژمردہ کی ضد، سرسبز، ہرا بھرا۔  جوانی کے گلشن کا وہ تازہ گل کرے جس کی خاک قدم تازہ گل      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٩٦٣ ) ٢ - جدید، حال کا۔  مدت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم خاموش اداؤں میں وہ جذبات کا عالم    ( ١٩٦٠ء، جگر، آتش گل، ١٩١ ) ٥ - فربہ، موٹا تازہ، توانا، تنومند۔ "یہ بچہ کیا چھوٹا سا پیارا لاڈلا حسین و تازہ و توانا ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، سوانح عمری ملکہ وکٹوریہ، ٦٦٨ ) ٧ - جو از سر نو ابھرے یا پھر سے نمایاں ہو۔ "خدا کا خیال تازہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٤٥:١ ) ٨ - باسی کی ضد، حال کا بھرا ہوا (پانی)، نیا نکالا ہوا۔ "گریٹ لیک تازہ پانی کی جھیلوں کا ایک سلسلہ ہے جو کینیڈا اور امریکا میں پھیلا ہوا ہے۔"      ( ١٩٦٠ء، دھاتوں کی کہانی، ٩٠ ) ٩ - [ مجازا ]  نووارد، نیا نیا، نورسیدہ۔  اب تو پھڑکے ہے قفس میں تازہ اسیر کوئی دن کو دیکھنا اس کو یہیں ہل جائے گی      ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٢٦٦:١ ) ١٠ - خوش (دل کے ساتھ)۔ (نوراللغات)

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت ہے اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٥ - فربہ، موٹا تازہ، توانا، تنومند۔ "یہ بچہ کیا چھوٹا سا پیارا لاڈلا حسین و تازہ و توانا ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، سوانح عمری ملکہ وکٹوریہ، ٦٦٨ ) ٧ - جو از سر نو ابھرے یا پھر سے نمایاں ہو۔ "خدا کا خیال تازہ ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٤٥:١ ) ٨ - باسی کی ضد، حال کا بھرا ہوا (پانی)، نیا نکالا ہوا۔ "گریٹ لیک تازہ پانی کی جھیلوں کا ایک سلسلہ ہے جو کینیڈا اور امریکا میں پھیلا ہوا ہے۔"      ( ١٩٦٠ء، دھاتوں کی کہانی، ٩٠ )