تازیانہ
معنی
١ - چابک، ہنٹر، قمچی، کوڑا؛ تنبیہہ۔ "سبق یاد نہ کرنے یا شرارت کرنے پر بجائے سزائے تازیانہ کے سزائے جرمانہ دی جاتی۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٩٣:٣ ) ٢ - وہ بید جس سے ملزموں کو سزا دی جائے۔ کچھ سہم کے نہیب سے تھرائے مثل بید لچکے جو مدعی پہ ترا تازیانہ آج ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں فارسی سے آیا۔ سب سے پہلے ١٨٧٨ء کو "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چابک، ہنٹر، قمچی، کوڑا؛ تنبیہہ۔ "سبق یاد نہ کرنے یا شرارت کرنے پر بجائے سزائے تازیانہ کے سزائے جرمانہ دی جاتی۔" ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٩٣:٣ )