تان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سروں کے اس کھنچاؤ یا مجموعے کو کہتے ہیں جس سے راگ میں تدریجی بڑھت ہوتی ہے۔  تانوں کو اپنے ڈھب سے گھٹا اور بڑھا سکے اس کی پسند کے ہیں جو گانے وہ گا سکے    ( ١٩٤٧ء، سنبل و سلاسل، ٧١ ) ٢ - ساز کی سروں کی آواز کا مسلسل اتار چڑھاؤ جو تیزی کے ساتھ ہو۔ "بین اور ساتوں تانوں کے نغمے حسیناؤں کی شیریں آواز کے ساتھ ہوا میں گونج رہے ہیں"۔    ( ١٩٢٦ء، درگیش نندنی، ١٩٦ ) ٣ - طولانی تار،۔ تانا۔ "تان تار ہائے طولانی کو کہتے ہیں کہ جولاہے کپڑا بننے کے واسطے اول اس کو بناتے ہیں"۔      ( ١٨٤٥ء، (ترجمہ) مطلع العلوم، ١٩٤ ) ٤ - لوہے کی سلاخ، چھتری کی تیلی وغیرہ، موٹے تار۔ "جہاز کے تمامی کل پرزے کیا بادبان، کیا مستول، تانیں اور رسے اور تمام چیزیں اس نے اسی باریک بینی کی نظر سے جانچی ہیں"۔      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٢٢٤:٥ ) ٧ - پلنگ کی پٹی اور سیروے کے جوڑ پر جس کے درمیان پا جڑائی کو گنیا (قائمہ زاویہ) میں رکھنے کے لیے جڑی ہوئی لکڑی یا لوہے کی بنی ہوئی آڑ، چگا، ضامن۔(اصطلاحات پیشہ وراں، 183:1) ٨ - عینک کی کمانی کے بغلی تار جو عینک کو آنکھوں پر ٹکائے رکھتے ہیں، کاڑی۔(اصطلاحات پیشہ وراں، 183:1) ١٠ - کسی ہتھیار کو اوپر اٹھانے کی حالت و کیفیت، وار۔ "آپس میں نیزہ بازی ہونے لگی، اکیسویں تان میں شہزادے نے نیزہ احکام کا نکالا"۔      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٤٩:٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ سنسکرت میں اسی صورت میں مستعمل ہے۔

مثالیں

٢ - ساز کی سروں کی آواز کا مسلسل اتار چڑھاؤ جو تیزی کے ساتھ ہو۔ "بین اور ساتوں تانوں کے نغمے حسیناؤں کی شیریں آواز کے ساتھ ہوا میں گونج رہے ہیں"۔    ( ١٩٢٦ء، درگیش نندنی، ١٩٦ ) ٣ - طولانی تار،۔ تانا۔ "تان تار ہائے طولانی کو کہتے ہیں کہ جولاہے کپڑا بننے کے واسطے اول اس کو بناتے ہیں"۔      ( ١٨٤٥ء، (ترجمہ) مطلع العلوم، ١٩٤ ) ٤ - لوہے کی سلاخ، چھتری کی تیلی وغیرہ، موٹے تار۔ "جہاز کے تمامی کل پرزے کیا بادبان، کیا مستول، تانیں اور رسے اور تمام چیزیں اس نے اسی باریک بینی کی نظر سے جانچی ہیں"۔      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٢٢٤:٥ ) ١٠ - کسی ہتھیار کو اوپر اٹھانے کی حالت و کیفیت، وار۔ "آپس میں نیزہ بازی ہونے لگی، اکیسویں تان میں شہزادے نے نیزہ احکام کا نکالا"۔      ( ١٩٠٢ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ٤٩:٣ )

جنس: مؤنث