تانت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بھیڑ بکری کی انتڑیاں جنہیں بٹ کر دھاگا سا بنا لیتے ہیں، آنت کی ڈور (اب نائلون سے بھی تانت کا کام لیتے ہیں)  عینک آنکھوں پر منہ میں مصنوعی دانت نیچر نے سکھا کے کر دیا جسم کو تانت      ( ١٩٢١ء، کلیات اکبر، ٣٧:١ ) ٢ - سارنگی وغیرہ کا تار۔ "تانت میں سے انسانی آواز ضرور نکلتی ہے مگر تار میں سے یہ آواز پیدا کرتے صرف چچا صاحب مرحوم کو دیکھا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت مضامین، ٢١٣:٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان میں اصل لفظ 'تنتہ' سے حاصل مصدر 'تانت' اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٨ء، میں "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سارنگی وغیرہ کا تار۔ "تانت میں سے انسانی آواز ضرور نکلتی ہے مگر تار میں سے یہ آواز پیدا کرتے صرف چچا صاحب مرحوم کو دیکھا۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت مضامین، ٢١٣:٤ )

جنس: مؤنث