تاک

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - ٹکٹکی، نگاہ، جمی ہوئی نظر۔ "متصل نہر کے انگور کی تاک تھی، ہر شجر کی اس پر تاک تھی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٦٠:١ ) ٢ - گھات، کمین۔  نامۂ یار کا مشکل ہے پہنچنا مجھ تک تاک میں غیر بھی ہیں حضرت سنسر کے سوا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٧ ) ٣ - انتظار۔  پر وقت کی تاک میں برابر ہمت تیری گن رہی تھی گھڑیاں      ( ١٩١٣ء، کلیات نظم حالی، ٥٤ ) ٤ - تلاش۔  فرقت گل میں بچے گی کس طرح سے جان زار باغ میں صیاد کو بلبل کی ناحق تاک ہے      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٨٠٢ ) ٥ - شست، نشانہ۔  بہت اپنی تاک بلند تھی، کوئی بیس گز کی کمند تھی پر اچھال پھاند وہ بند تھی ترے چوکیداروں کی جاگ سے      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ١٦٥ ) ٦ - دیکھ بھال، توجہ، اہتمام۔  ساقی کے ساتھ راحت و آرام بھی گیا اب کون مے پلائے گارندوں کو تاک سے      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٢٩٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ ہے۔ سنسکرت میں اس کے برعکس اصل لفظ 'ترکیہ' مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٣١ء کو "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹکٹکی، نگاہ، جمی ہوئی نظر۔ "متصل نہر کے انگور کی تاک تھی، ہر شجر کی اس پر تاک تھی۔"      ( ١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٦٠:١ )

جنس: مذکر