تباشیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بنس لوچن۔  طلیعۂ سحر و ماہ بے محاق و کلف ہے آب تباشیر رخ بیاض کرم      ( ١٩٦٦ء، منحمنا، ١٣ ) ٢ - [ مجازا ]  سپیدہ صبح، آغاز صبح کی روشنی۔  ایک ہے نفع و ضرر، اب زرگل ہو کر شرر مشکناب شب یلدا کے تباشیر سحر      ( ١٩٦٣ء، ورق ناخواندہ، ٣٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٢ء میں "قلمی نسخہ، دیوان محب" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث