تباہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خراب، ویران، برباد، اجاڑ۔ "باقی جس قدر تھے تباہ و تاراج ہو گئے۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، خیری ١٠٤ ) ٢ - شکستہ، خستہ حال۔  اٹھے نہ غیر کے پہلو سے آپ کیا جانیں کسی غریب خراب و تباہ کی گردش      ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ١٠٨ ) ٣ - غرقاب، غرق شدہ، ڈوبا ہوا۔  نکالا چاہتا ہے بحر سے کشتی تباہوں کی خدا کی شان ہم بھی آرزوے ناخدا نکلے      ( ١٨٩٥ء، زکی، دیوان، ١٤٥ ) ٤ - ضائع، رائیگاں۔  دانتوں سے پکڑی مشک کہ محنت نہ ہو تباہ مشکیزے پر بھی تیر لگا وا مصیبتاہ      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٢٠٩:١ ) ٥ - فاسد، نادرست۔  کیونکہ تو کرتا تھا پہلے سجدہ آہ ہو گئی تیری نماز اس سے تباہ      ( ١٨١٤ء، حکایات رنگین، ٢٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت ہے۔ اردو میں اپنے اصل مفہوم و صورت کے ساتھ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء میں "دیوان قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خراب، ویران، برباد، اجاڑ۔ "باقی جس قدر تھے تباہ و تاراج ہو گئے۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، خیری ١٠٤ )