تباہی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خرابی، بربادی۔  ہوا میں اینڈتی ہوئی فضا میں جھومتی ہوئی تحمل و شکیب کی تباہیاں لیے ہوئے    ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٨٧ ) ٢ - اختتام، نیست و نابود۔ 'اسلام کا وجود حقیقۃً ان مظالم کی تباہی اور حقوق اللہ کی تصریح تھی۔"    ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٧٢ ) ٣ - ڈوبنے یا ڈبونے کا عمل؛ ٹوٹ پھوٹ یا تتر بتر ہونے کی حالت۔  اک مدعی کی کشتی راحت نصیب ساحل اور اک مرا سفینہ پروردۂ تباہی    ( ١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٣٢٨ ) ٤ - آفت، مصیبت، بلا۔ 'انھوں نے دعا کی اور تباہی دور ہو کر کھیتی باڑی سرسبز ہو گئی۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، خیری، ٢١ ) ٥ - شکستہ حالی، مفلسی۔ 'نواب صفدر جنگ کی وفات کے بعد اس نئی بستی پر چند روز کے لیے تباہی برس گئی۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مشرقی تمدن کا آخری نمونہ، ٢١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'تباہ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٧٧٥ء کو 'مثنویات حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اختتام، نیست و نابود۔ 'اسلام کا وجود حقیقۃً ان مظالم کی تباہی اور حقوق اللہ کی تصریح تھی۔"    ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٧٢ ) ٤ - آفت، مصیبت، بلا۔ 'انھوں نے دعا کی اور تباہی دور ہو کر کھیتی باڑی سرسبز ہو گئی۔"      ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، خیری، ٢١ ) ٥ - شکستہ حالی، مفلسی۔ 'نواب صفدر جنگ کی وفات کے بعد اس نئی بستی پر چند روز کے لیے تباہی برس گئی۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مشرقی تمدن کا آخری نمونہ، ٢١ )

اصل لفظ: تَباہ
جنس: مؤنث