تبتل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تجرد اختیار کرنے کا عمل، مجرد زندگی گزارنے کی حالت۔ "نہ اس نے رہبانیت اور تبتل کو جائز رکھا ہے اور نہ. پہاڑوں میں بیٹھ کر عبادت کرنا مباح قرار دیا ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، المدینۃ والاسلام، ٨٦ ) ٢ - اللہ کے سوا سب سے منقطع ہو کر ہمہ تن خدا کی عبادت میں لگے رہنے کی حالت۔ تبتل کے اصل معنی کٹ جانے کے ہیں اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں خدا کے سوا ہر چیز سے کٹ کر صرف خدا کا ہو جانا۔"      ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبی، ١٦٤:٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٠٤ء میں "المدینۃ الاسلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تجرد اختیار کرنے کا عمل، مجرد زندگی گزارنے کی حالت۔ "نہ اس نے رہبانیت اور تبتل کو جائز رکھا ہے اور نہ. پہاڑوں میں بیٹھ کر عبادت کرنا مباح قرار دیا ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، المدینۃ والاسلام، ٨٦ ) ٢ - اللہ کے سوا سب سے منقطع ہو کر ہمہ تن خدا کی عبادت میں لگے رہنے کی حالت۔ تبتل کے اصل معنی کٹ جانے کے ہیں اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں خدا کے سوا ہر چیز سے کٹ کر صرف خدا کا ہو جانا۔"      ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبی، ١٦٤:٥ )

اصل لفظ: بتل
جنس: مذکر