تبدع
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - بدعتی ہونا، بدعتوں کا مشرب اختیار کرنا۔ "۔"تبدع و توہب کا وہ زبردست دیو جو سویا کبھی بھی نہ تھا درمیان میں ذرا اونگھنے لگا تھا۔" ( ١٩٢٥ء، محمد علی، ٢٢٨:١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٢٥ء میں "محمد علی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بدعتی ہونا، بدعتوں کا مشرب اختیار کرنا۔ "۔"تبدع و توہب کا وہ زبردست دیو جو سویا کبھی بھی نہ تھا درمیان میں ذرا اونگھنے لگا تھا۔" ( ١٩٢٥ء، محمد علی، ٢٢٨:١ )
اصل لفظ: بدع
جنس: مذکر