تبدل
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - تبدیلی، بدل جانے کی کیفیت۔ 'تورات اور انجیل ہمیشہ تغیر و تبدل کے مختلف قالب بدلتی رہیں۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٦٦:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو 'دیوان فدا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تبدیلی، بدل جانے کی کیفیت۔ 'تورات اور انجیل ہمیشہ تغیر و تبدل کے مختلف قالب بدلتی رہیں۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٦٦:١ )
اصل لفظ: بدل
جنس: مذکر