تبدلی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - تبدل سے منسوب، (عموماً موصوف کے ساتھ مستعمل)۔ "ان میں ہوائی نسیج یا ہوا رساں بافت کا بکثرت نمو ہوتا ہے جو کاگی تبدلی بافت سے تیار ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، مبادی نباتیات، ٤٠٧:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'تَبَدَّل' کے ساتھ اردو قاعدے کے مطابق 'ی' بطور لاحقہ صفت لگانے سے 'تبدیلی' بنا اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٢ء کو مبادی نباتیات میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تبدل سے منسوب، (عموماً موصوف کے ساتھ مستعمل)۔ "ان میں ہوائی نسیج یا ہوا رساں بافت کا بکثرت نمو ہوتا ہے جو کاگی تبدلی بافت سے تیار ہوتی ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، مبادی نباتیات، ٤٠٧:٢ )

اصل لفظ: بدل