تبذیر
معنی
١ - دولت تباہ کرنا، مال کو فضول خرچ کرنا، بے ضرورت روپیہ اڑانا۔ "پیغمبر صاحب کا مقصود کفن میں اسراف و تبذیر کرنے کی ممانعت ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٧٩:٣ ) ٢ - پراگندگی کرنا؛ زمین سے گھاس کا اگنا۔ (لغات کشوری)
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٠٦ء میں "الحقوق و الفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دولت تباہ کرنا، مال کو فضول خرچ کرنا، بے ضرورت روپیہ اڑانا۔ "پیغمبر صاحب کا مقصود کفن میں اسراف و تبذیر کرنے کی ممانعت ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢٧٩:٣ )