تبرک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ چیز جس میں برکت ہونے کا اعتقاد ہو، خیر و برکت کی چیز۔ 'سجادہ نشین دربار نے تسبیح اور تبرک پیش کیا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، فروری، ٢٤ ) ٢ - تحفہ، بزرگوں کا عطیہ۔ 'غلام کی سب آرزو پوری ہوئی پھر تبرک کی تمنا ہے۔"      ( ١٨٦١ء، فسانۂ عبرت، ٦٠ ) ٣ - کسی بزرگ یا پیشوائے دین کی فاتحہ کی چیز، پرشاد۔ 'درگاہ شاہ بو علی قلندر واقع پانی پت کے خدام نے تبرک پیش کیا۔"      ( ١٩٣٠ء، بہادر شاہ کا روزنامچہ، ١٨ ) ٤ - [ مجازا ]  'ایسی نایاب و مبارک چیز جو عنقریب فنا ہو جانے والی ہو۔" 'جیسے عربی و فارسی رفتہ رفتہ تبرک ہو گئی اسی طرح اردو کو بھی انگریزی کی عملداری نے اسی رستے پر ڈال دیا تھا جو عدم کو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، نکتۂ راز، ٣٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٦٨٢ء کو 'رضوان شاہ و روح افزا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ چیز جس میں برکت ہونے کا اعتقاد ہو، خیر و برکت کی چیز۔ 'سجادہ نشین دربار نے تسبیح اور تبرک پیش کیا۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن، فروری، ٢٤ ) ٢ - تحفہ، بزرگوں کا عطیہ۔ 'غلام کی سب آرزو پوری ہوئی پھر تبرک کی تمنا ہے۔"      ( ١٨٦١ء، فسانۂ عبرت، ٦٠ ) ٣ - کسی بزرگ یا پیشوائے دین کی فاتحہ کی چیز، پرشاد۔ 'درگاہ شاہ بو علی قلندر واقع پانی پت کے خدام نے تبرک پیش کیا۔"      ( ١٩٣٠ء، بہادر شاہ کا روزنامچہ، ١٨ ) ٤ - [ مجازا ]  'ایسی نایاب و مبارک چیز جو عنقریب فنا ہو جانے والی ہو۔" 'جیسے عربی و فارسی رفتہ رفتہ تبرک ہو گئی اسی طرح اردو کو بھی انگریزی کی عملداری نے اسی رستے پر ڈال دیا تھا جو عدم کو جاتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، نکتۂ راز، ٣٠ )

اصل لفظ: برک
جنس: مذکر