تبسم

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - مسکرانا، زیرلب ہنسنا، ایسی ہنسی جس میں آواز نہ ہو، مسکراہٹ۔ 'تبسم کے سوا کبھی لب مبارک خندہ و قہقہہ سے آشنا نہیں ہوئے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٣٨:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  غنچے کی شگفتگی۔ (جامع اللغات)

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٩ء کو 'نورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مسکرانا، زیرلب ہنسنا، ایسی ہنسی جس میں آواز نہ ہو، مسکراہٹ۔ 'تبسم کے سوا کبھی لب مبارک خندہ و قہقہہ سے آشنا نہیں ہوئے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٣٨:٢ )

اصل لفظ: بسم
جنس: مذکر