تبع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پیروی کرنے والا، پیرو۔ 'ایسے لوگوں کی طلاق کی منظوری دینے کی مجاز ہیں جو مذہب عیسوی کے تبع اور ہندوستان میں رہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٠ء، شخصی قانون بین الاقوام، ٣٨ ) ١ - پیروی، اتباع۔ 'بعد اس کے تابعین اور اتباع تبع پر کہ نادیہ شوق لقائے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جان عزیز دیتے ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ١٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو 'احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پیروی کرنے والا، پیرو۔ 'ایسے لوگوں کی طلاق کی منظوری دینے کی مجاز ہیں جو مذہب عیسوی کے تبع اور ہندوستان میں رہتے ہیں۔"      ( ١٩٣٠ء، شخصی قانون بین الاقوام، ٣٨ ) ١ - پیروی، اتباع۔ 'بعد اس کے تابعین اور اتباع تبع پر کہ نادیہ شوق لقائے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جان عزیز دیتے ہیں۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیاء، ١٣:١ )

اصل لفظ: تبع