تبکیت
معنی
١ - بحث میں غلبہ حاصل کرنا، اس طرح قائل کرنا کہ پھر بات کرنے کی جرات نہ ہو، منہ بند کر دینا۔ "قرآن کریم نے. صریح اسلوب میں اس واقعے کی ایسی تردید و تبکیت کی کہ کسی کو جواب میں لب ہلانے کی ہمت و جرات ہی نہ ہو سکی۔" ( ١٩٤٣ء، سید محفوظ علی، طنزیات مقالات، ٤٤٠ ) ٢ - [ منطق ] ہر وہ قیاس جس سے کسی وضع خاص کی نقیض کا نتیجہ نکلے۔ (حکمۃ الاشراق، 84)
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٨ء میں "ابن الوقت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بحث میں غلبہ حاصل کرنا، اس طرح قائل کرنا کہ پھر بات کرنے کی جرات نہ ہو، منہ بند کر دینا۔ "قرآن کریم نے. صریح اسلوب میں اس واقعے کی ایسی تردید و تبکیت کی کہ کسی کو جواب میں لب ہلانے کی ہمت و جرات ہی نہ ہو سکی۔" ( ١٩٤٣ء، سید محفوظ علی، طنزیات مقالات، ٤٤٠ )