تتا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - گرم، جلتا ہوا، بھبکتا ہوا۔ "خوب کہی! اری چمیلی پر بھی کوئی تتا پانی چھڑکتا ہے۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلا، اختر حسین، ٩٧ ) ٢ - تند مزاج، غضب ناک۔  اکثر جو دلیر تھے جلے تن جاہل تتے سمجھ کے دشمن      ( ١٨٨١ء، مثنوی نیرنگ خیال، ١٥٤ ) ٣ - سرگرم، پرجوش۔ "یوں سوچ سمجھ اس نے ہاتھ کو آنکس مار تتا کیا۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٧٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٢١ء کو "خالق باری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گرم، جلتا ہوا، بھبکتا ہوا۔ "خوب کہی! اری چمیلی پر بھی کوئی تتا پانی چھڑکتا ہے۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلا، اختر حسین، ٩٧ ) ٣ - سرگرم، پرجوش۔ "یوں سوچ سمجھ اس نے ہاتھ کو آنکس مار تتا کیا۔"      ( ١٨٠٣ء، پریم ساگر، ٧٣ )

اصل لفظ: تپتکہ