تتلانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - بات کرتے وقت حروف کا صحیح مخارج سے ادا نہ کرنا؛ جیسے ٹ کی جگہ ت اور ڈ کی جگہ د اور ک کی جگہ ت کی آواز نکالنا جس طرح ابتدا میں بچے بولتے ہیں۔ "بھئی ہم سے پہیلیاں نہ بجھوائیے۔ اسے ہر مرد سے تتلا کر بولنے کی عادت پڑ چکی تھی۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣٨ )

اشتقاق

ہندی زبان سے اصل ساخت اور معنی کے ساتھ اردو میں داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٨٥٧ء، کو "بحرالفت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بات کرتے وقت حروف کا صحیح مخارج سے ادا نہ کرنا؛ جیسے ٹ کی جگہ ت اور ڈ کی جگہ د اور ک کی جگہ ت کی آواز نکالنا جس طرح ابتدا میں بچے بولتے ہیں۔ "بھئی ہم سے پہیلیاں نہ بجھوائیے۔ اسے ہر مرد سے تتلا کر بولنے کی عادت پڑ چکی تھی۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣٨ )