تجاذب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - باہمی کشش، ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کا عمل، جذب کر لینے کا کام۔ "مختلف مدارج میں مقناطیسیت وزن تجاذب کیمیاوی . بن کر رونما ہوتی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، شو پنہار، ٥١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٧ء میں "ستۂ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باہمی کشش، ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچنے کا عمل، جذب کر لینے کا کام۔ "مختلف مدارج میں مقناطیسیت وزن تجاذب کیمیاوی . بن کر رونما ہوتی ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، شو پنہار، ٥١ )

اصل لفظ: جذب
جنس: مذکر