تجارت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فاسدہ کی امید پر بیوپار، سوداگری، اشیا کی خرید و فروخت کا کام، چیزوں کے لین دین کا دھندا یا کاروبار۔ "ابوطالبؓ تجارت کا کاروبار کرتے تھے۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ١٦٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فاسدہ کی امید پر بیوپار، سوداگری، اشیا کی خرید و فروخت کا کام، چیزوں کے لین دین کا دھندا یا کاروبار۔ "ابوطالبؓ تجارت کا کاروبار کرتے تھے۔"      ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ١٦٦:١ )

اصل لفظ: تجر
جنس: مؤنث