تجاوز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آگے بڑھنے یا مقررہ حد سے گزرنے کی حالت و کیفیت۔ "حیوانات کا ایک ایک فرد اپنے نوعی افعال و اخلاق سے ایک سرمو تجاوز نہیں کرسکتا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٨٩:٢ ) ٢ - فرق، تغاوت، مبالغہ۔  تجاوز نہیں ذرہ اس بات میں کہ سب کا سفر ہے تر ے ہاتھ میں      ( ١٦٣٩ء، طوطی نامہ، غواصی، ٢ ) ٣ - انحراف، عدول حکمی، خلاف ورزی۔ "یہ عمال. فرمان پر عمل کرتے تھے اور اس میں سر مو تجاوز جائز نہیں رکھتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٣:٢ ) ٤ - (شارع عام یا سرکاری زمین پر ) ناجائز تصرف یا قبضہ۔ " فٹ پاتھ پر تجاوزات کا وسیع اور از حد اذیت ناک سلسلہ ختم کر دیا جائے۔"      ( ١٩٧٦ء، نوائے وقت، ٤ نومبر، ٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل از مضاف سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مستعمل ہے ۔ اردو میں ١٦٣٩ء کو " طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آگے بڑھنے یا مقررہ حد سے گزرنے کی حالت و کیفیت۔ "حیوانات کا ایک ایک فرد اپنے نوعی افعال و اخلاق سے ایک سرمو تجاوز نہیں کرسکتا۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٨٩:٢ ) ٣ - انحراف، عدول حکمی، خلاف ورزی۔ "یہ عمال. فرمان پر عمل کرتے تھے اور اس میں سر مو تجاوز جائز نہیں رکھتے تھے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٣:٢ ) ٤ - (شارع عام یا سرکاری زمین پر ) ناجائز تصرف یا قبضہ۔ " فٹ پاتھ پر تجاوزات کا وسیع اور از حد اذیت ناک سلسلہ ختم کر دیا جائے۔"      ( ١٩٧٦ء، نوائے وقت، ٤ نومبر، ٢ )

اصل لفظ: جوز
جنس: مذکر