تجاہل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - انجان پن، بے خبری یا عدم واقفیت، خود کو انجان ظاہر کرنے کی کیفیت، بے پروائی۔ "اختر کی آنکھوں میں پرانے مرقع پھر گئے لیکن تجاہل کو آڑ بنایا۔"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ٨٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں من و عن داخل ہوا بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انجان پن، بے خبری یا عدم واقفیت، خود کو انجان ظاہر کرنے کی کیفیت، بے پروائی۔ "اختر کی آنکھوں میں پرانے مرقع پھر گئے لیکن تجاہل کو آڑ بنایا۔"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ٨٣ )

اصل لفظ: جہل
جنس: مذکر