تجدد
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - نیاپن، نیا ہونا، نئی بات، جدت پسندی۔ "انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ ہمرنگی کے باوجود تفنن اور تجدد کا طالب ہے۔" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ١٨٦:٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٩٢ء میں "سفر نامہ روم و مصر و شام" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نیاپن، نیا ہونا، نئی بات، جدت پسندی۔ "انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ ہمرنگی کے باوجود تفنن اور تجدد کا طالب ہے۔" ( ١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ١٨٦:٥ )
اصل لفظ: جدد
جنس: مذکر