تجربہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - آزمائش، امتحان، جانچ۔ 'میں نے بنی اسرائیل کا معاملہ دیکھا ہے مجھے خوب تجربہ ہو چکا ہے۔"      ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ٤٣ ) ٢ - [ سائنس ]  عمل، عملی جانچ پڑتال، ماہیت کی جانچ۔ 'تجربہ ہی ایک ایسا جوہر ہے جس کی طرف تعلیم کے تمام شعبوں میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامرض، ٩:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے ماخوذ ہے۔ اردو میں ١٦٢٥ء "سب رس" میں سب سے پہلے مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آزمائش، امتحان، جانچ۔ 'میں نے بنی اسرائیل کا معاملہ دیکھا ہے مجھے خوب تجربہ ہو چکا ہے۔"      ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ٤٣ ) ٢ - [ سائنس ]  عمل، عملی جانچ پڑتال، ماہیت کی جانچ۔ 'تجربہ ہی ایک ایسا جوہر ہے جس کی طرف تعلیم کے تمام شعبوں میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، ماہیت الامرض، ٩:٢ )

اصل لفظ: جرب
جنس: مذکر