تجزیدی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - ذہنی و خیالی، اشارات پر مبنی، عملی کی ضد۔ "چنانچہ اس قرارداد کی رو سے نہایت دشوار تجریدی مضمونوں میں بھی ہندوستانی زبان میں امتحان لینے کی اجازت دی گئی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، مقالات گارساں دتاسی، ١٩٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'تجرید' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت لگانے سے 'تجریدی' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٣ء کو "مقالات گارساں دتاسی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذہنی و خیالی، اشارات پر مبنی، عملی کی ضد۔ "چنانچہ اس قرارداد کی رو سے نہایت دشوار تجریدی مضمونوں میں بھی ہندوستانی زبان میں امتحان لینے کی اجازت دی گئی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، مقالات گارساں دتاسی، ١٩٢:١ )

اصل لفظ: جرد