تجوع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بھوک کی کیفیت۔ "تجوع کا سبب یا تو غذا سے کلی طور پر محروم ہونا یا غذا کی ناکافی مقدار اور ناقص رسد ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، طب قانونی، ٤٤١ ) ٢ - [ مجازا ]  کمی کی کیفیت، کسی جز کی قلت۔ "کیلسیم کے تجوع سے جو تغیرات پیدا ہوتے ہیں وہ ان تغیرات سے مشابہ ہوتے ہیں جو بچوں میں کساحت میں مشاہدہ میں آتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ، ١٩٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٩٣٧ میں "طب قانونی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بھوک کی کیفیت۔ "تجوع کا سبب یا تو غذا سے کلی طور پر محروم ہونا یا غذا کی ناکافی مقدار اور ناقص رسد ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، طب قانونی، ٤٤١ ) ٢ - [ مجازا ]  کمی کی کیفیت، کسی جز کی قلت۔ "کیلسیم کے تجوع سے جو تغیرات پیدا ہوتے ہیں وہ ان تغیرات سے مشابہ ہوتے ہیں جو بچوں میں کساحت میں مشاہدہ میں آتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، علم الادویہ، ١٩٩:١ )

اصل لفظ: جوع
جنس: مذکر