تجوہر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - درجہ کمال، مقام معرفت جہاں انسان اشیا ماحول اور واقعات کی اصل کو جان لیتا ہے یا جاننے کے نزدیک ہو جاتا ہے۔ "عبادات و ریاضات کے ذریعے آدمی ایک وقت مقام تجوہر میں آجاتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، المعارف، اکتوبر، ٢٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں رباعی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٦٩ء میں "المعارف، اکتوبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - درجہ کمال، مقام معرفت جہاں انسان اشیا ماحول اور واقعات کی اصل کو جان لیتا ہے یا جاننے کے نزدیک ہو جاتا ہے۔ "عبادات و ریاضات کے ذریعے آدمی ایک وقت مقام تجوہر میں آجاتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، المعارف، اکتوبر، ٢٠ )

اصل لفظ: جوہر
جنس: مذکر