تجہیل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نادانی، ناواقفیت، کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جاہل ہے، جاہل قرار دینے کا عمل۔ "میں نے کہا کہ صاحب تکفیر یا تجہیل کاتب کی کریں میرا کیا قصور۔"      ( ١٩٠٣ء، عصر جدید، نومبر، ٧١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٦ء کو "نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نادانی، ناواقفیت، کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جاہل ہے، جاہل قرار دینے کا عمل۔ "میں نے کہا کہ صاحب تکفیر یا تجہیل کاتب کی کریں میرا کیا قصور۔"      ( ١٩٠٣ء، عصر جدید، نومبر، ٧١ )

اصل لفظ: جہل
جنس: مؤنث