تحاشا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - اجتناب، تننفّر، ڈر، خوف (عموماً بے کے ساتھ مستعمل)۔ یونْہِیں وہ مصر کا پاشا ہوا پانی کا بتاشا یونْہِیں بے خوف و تحاشا ہوا ناگوں کا تماشا ( ١٨٨٤ء، کلیات قدر، ٧٣ )
اشتقاق
عربی سے ماخوذ صفت ہے اردو میں من و عن بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٨٤ء کو "کلیات قدر" میں مستعمل ملتی ہے۔